A Urdu Story on fake Leaders " Main Pagal Nahi Hun (I am not mad) " by Md Shamsujjoha

Share:

(میں پاگل نہیں ہوں           (افسانہ

urdu story Main Pagal Nahin Hun

آج پورے گاؤں میں حمید کی خودکشی کی ہی چرچا ہو رہی تھی نا جانے ا ٓج  کیوں پورےگاؤں والوں کو لگ رہا تھا کہ ٓج اس سے اپنا کوئی بچھڑ گیا ہے کوئی کہ رہا تھا   آخر کیوں حمید نے   آبادی سے دور ایک سن سان جگہ پر ریلوے ٹریک پر لیٹ کر اپنی جان دے دی تو     کوئی کہ  رہا  تھا ہو سکتا ہے ان کے ساتھ کوئی حادثہ ہوا ہو جلدی  سے  ٹریک پار کرنے    کے چکرّ  میں ٹرین کی زد میں آگیا  ہو تو کوئی  کہ رہا  تھا  کہ ہو سکتا ہے کسی نے اس کا  قتل کروایاہو اور  قتل کی نسانی چھپانے کے لئے لاش کو ریلوے ٹریک پر ڈال دیا ہو اتنے میں ہی اسلم صاحب  بول اٹھے    نہیں  ایسا نہیں ہو  سکتا   بھلا  حمید صاحب اتنے اچھے قلمکار  تھے  کہ سماج میں پھیلی ہوئی تمام برائیوں  کو خوبصورت   طر یقے  سے ایک کاغذ کے سادے ٹکرے پر اتار دینے والے سے بھلا کسی کو کیا دشمنی ہو سکتی ہے  میں نہیں مانتا کہ کسی نے حمید صاحب کا قتل کیا ہے     مطلب یہ کہ گاؤں میں جتنی منہ اتنی باتیں ہو رہی تھی اتنے میں نیتاجی  پہنچے  اور حمید کی لاش کے سامنے کھڑے ہو کر دو منٹ کی خاموشی  اختیار کر کے حمید کے والد صاحب احمد کے ساتھ اظہار  تعزیت  کیا اور معاوضے کے طور  پر پانچ لاکھ روپے  دینے کا اعلان  کیا اور اپنی لال بتی والے گاڑی سے واپس چلے گئے                 

ظہر کی نماز ختم ہو چکی تھی گاؤں  والوں نے حمید کا آخری دیدار کیا اور جنازے کو کندھا دیتے ہوئے قبرستان کی طرف چل دیئے                                                                                                   

احمد صاحب کی عمر 55 برس  ہو چکی تھی ان کی بیوی پہلے ہی اس دنیا سے چل بسی تھی احمد صاحب کو صرف ایک ہی  اولاد تھی اور وہ بھی اب اس دنیاں سے چل بسا تھا گا ؤں والے بھی اب دھیرے –دھیرے حمید کو بھولنے لگے تھے   اچانک ایک دن پھر نیتا جی آۓاور احمد صاحب کو پانچ لاکھ کا چیک  دیتے ہوے ٔ فوٹو کھنچوایا  اور چل دیے ٔ  وقت اپنی منزل پر رواں دواں تھا   گاؤں والے اب پوری طرح حمید کو بھول چکے تھے  احمد صاحب کا بھی دماغی توازن اب کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا  محلّےکے بچّےاسے پاگل سمجھ کر ان پر کنکر پتھر پھینکتے تھے اور حمید صاحب اپنی بغل میں ایک گٹھری دباۓ سب کچھ سہ لیتے تھے کیا مجال کہ کوئی انکی گٹھری کو چھولے اسی طرح وقت گزر رہا تھا  حمید کی موت کے پورے ایک سال بعد بھی کوئی بھی گٹھری کھول کے دیکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا پتہ نہیں وہ اپنی گٹھری میں  کیا چھپاے پھر رہے تھے  یہ گاؤںوالوں کے سمجھ سے باہر تھا

پورے ایک برس بعد ایک خبر پورے گاؤں   میں  جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی تھی جو بھی خبر سنتا  وہ شہر کی طرف دوڑا –دوڑا جاتا  یہ خبر احمد صاحب  کے کانوں  میں بھی گونجی  اور وہ بھی شہر کی طرف دوڑے –دوڑے چل دئیے پورا شہر پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو چکا تھا سب یہی کہ رہے تھے آخر نیتاجی کے بیٹے کو کس نے قتل کیا اور کیوں کیا نیتا جی کے بیٹے کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے صدر اسپتال  گیا ہوا تھا  تھوڑی ہی دیر  میں نیتا جی کے بیٹے کی لاش گھر پہنچ گئی  نیتا جی سے اظہار تعزیت کے لئے بہت سے بڑے –بڑے نیتا جی آنے لگے لاش کے چاروں طرف بڑے –بڑے نیتا لوگ کھڑے تھے تبھی احمد صاحب بھیڑ کو چیرتے ہوئے لاش کے پاس جا کر بہت زور –زور سے ہنسنے لگے بھیڑ میں سے کسی نےکہا اس پاگل کو باہر نکالو کچھ لوگ احمد صاحب کو پکڑ کر باہر نکالنے کے لئے آگے بڑھے تب احمد صاحب نے زور سے چیخ کر کہا  نہیں میں پاگل نہیں ہوں میں تو صرف اپنے بیٹے کے قتل کا سچ جاننے کے لئے پاگل بنا تھا میرے بیٹے نے نہ ہی خودکشی  کیا تھا  اور نہ ہی  اسکے ساتھ کوئی حادثہ ہوا تھا بلکہ تم نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر اپنے کالے دھندے کو فروغ دینے کے لئے میرے بیٹے کا قتل کیا تھا یہ دیکھو یہ رہا ثبوت  جب میں نے اپنے بیٹے کی کمرہ کی صفائی کرنے گیا تو مجھے یہ سب ملا یہ دیکھو یہ رہا میرے بیٹے کا تمہارے کالے دھندے کے اوپر تحریر کیا گیا مضمون اور یہ رہا میرے بیٹے کے نام تمہارا دھمکی آمیز خط جسے میرے بیٹے نے سنجیدگی سے نہیں لیا اور تو نے میرے بیٹے کا قتل کر دیا تم نے تو ایک بہت بری غلطی اسی دن کر دی تھی جس دن تو نے پانچ لاکھ روپے معاوضے کے طور پر دینے کا اعلان کیا تھا کیوں کی خودکشی کرنے والوں کو معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے اس پر بھی تم نے بغیر کسی کے مانگ کے ہوئے معاوضہ  دینے کا اعلان کیا تھا اور جانتے ہو تمہارے بیٹے کا قتل کس نے کیا ہے  تمہارے بیٹے کا قتل بھی اسی کالے دھندے والوں کیا ہے اور یہ لو اپنے پانچ لاکھ روپےاپنے بیٹے کی موت کا معاوضہ          

   : محمد شمس الضحٰی   از قلم  

4 comments:

  1. nice h mre bhai

    ReplyDelete
  2. Masha Allah, bht achha likha hai..
    Aage bhi aise post likhte rahiye.. 😊

    ReplyDelete
    Replies
    1. Thank you

      दुआ की दरख्वास्त है

      Delete