ظہر کی نماز ختم ہو چکی
تھی گاؤں والوں نے حمید کا آخری دیدار کیا اور جنازے کو کندھا دیتے ہوئے
قبرستان کی طرف چل
دیئے
احمد صاحب کی عمر 55
برس ہو چکی تھی ان کی بیوی پہلے ہی اس دنیا سے چل بسی تھی احمد صاحب کو صرف
ایک ہی اولاد تھی اور وہ بھی اب اس دنیاں سے چل بسا تھا گا ؤں والے بھی اب
دھیرے –دھیرے حمید کو بھولنے لگے تھے اچانک ایک دن پھر نیتا جی
آۓاور احمد صاحب کو پانچ لاکھ کا چیک دیتے ہوے ٔ فوٹو کھنچوایا اور
چل دیے ٔ وقت اپنی منزل پر رواں دواں تھا گاؤں والے اب پوری طرح
حمید کو بھول چکے تھے احمد صاحب کا بھی دماغی توازن اب کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا
تھا محلّےکے بچّےاسے پاگل سمجھ کر ان پر کنکر پتھر پھینکتے تھے اور حمید
صاحب اپنی بغل میں ایک گٹھری دباۓ سب کچھ سہ لیتے تھے کیا مجال کہ کوئی انکی
گٹھری کو چھولے اسی طرح وقت گزر رہا تھا حمید کی موت کے پورے ایک سال بعد
بھی کوئی بھی گٹھری کھول کے دیکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا پتہ نہیں وہ اپنی
گٹھری میں کیا چھپاے پھر رہے تھے یہ گاؤںوالوں کے سمجھ سے باہر تھا
پورے ایک برس بعد ایک خبر پورے گاؤں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی تھی جو بھی خبر سنتا وہ شہر کی طرف دوڑا –دوڑا جاتا یہ خبر احمد صاحب کے کانوں میں بھی گونجی اور وہ بھی شہر کی طرف دوڑے –دوڑے چل دئیے پورا شہر پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو چکا تھا سب یہی کہ رہے تھے آخر نیتاجی کے بیٹے کو کس نے قتل کیا اور کیوں کیا نیتا جی کے بیٹے کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے صدر اسپتال گیا ہوا تھا تھوڑی ہی دیر میں نیتا جی کے بیٹے کی لاش گھر پہنچ گئی نیتا جی سے اظہار تعزیت کے لئے بہت سے بڑے –بڑے نیتا جی آنے لگے لاش کے چاروں طرف بڑے –بڑے نیتا لوگ کھڑے تھے تبھی احمد صاحب بھیڑ کو چیرتے ہوئے لاش کے پاس جا کر بہت زور –زور سے ہنسنے لگے بھیڑ میں سے کسی نےکہا اس پاگل کو باہر نکالو کچھ لوگ احمد صاحب کو پکڑ کر باہر نکالنے کے لئے آگے بڑھے تب احمد صاحب نے زور سے چیخ کر کہا نہیں میں پاگل نہیں ہوں میں تو صرف اپنے بیٹے کے قتل کا سچ جاننے کے لئے پاگل بنا تھا میرے بیٹے نے نہ ہی خودکشی کیا تھا اور نہ ہی اسکے ساتھ کوئی حادثہ ہوا تھا بلکہ تم نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر اپنے کالے دھندے کو فروغ دینے کے لئے میرے بیٹے کا قتل کیا تھا یہ دیکھو یہ رہا ثبوت جب میں نے اپنے بیٹے کی کمرہ کی صفائی کرنے گیا تو مجھے یہ سب ملا یہ دیکھو یہ رہا میرے بیٹے کا تمہارے کالے دھندے کے اوپر تحریر کیا گیا مضمون اور یہ رہا میرے بیٹے کے نام تمہارا دھمکی آمیز خط جسے میرے بیٹے نے سنجیدگی سے نہیں لیا اور تو نے میرے بیٹے کا قتل کر دیا تم نے تو ایک بہت بری غلطی اسی دن کر دی تھی جس دن تو نے پانچ لاکھ روپے معاوضے کے طور پر دینے کا اعلان کیا تھا کیوں کی خودکشی کرنے والوں کو معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے اس پر بھی تم نے بغیر کسی کے مانگ کے ہوئے معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا اور جانتے ہو تمہارے بیٹے کا قتل کس نے کیا ہے تمہارے بیٹے کا قتل بھی اسی کالے دھندے والوں کیا ہے اور یہ لو اپنے پانچ لاکھ روپےاپنے بیٹے کی موت کا معاوضہ
: محمد شمس الضحٰی از قلم

nice h mre bhai
ReplyDeleteThank you Bhai
DeleteMasha Allah, bht achha likha hai..
ReplyDeleteAage bhi aise post likhte rahiye.. 😊
Thank you
Deleteदुआ की दरख्वास्त है