A Voter Awareness Urdu Story " NOTA " by Md Shamsujjoha

Share:

 نوٹا



انتخابی سرگرمیاں تیز ہو گئی تھی 25 تاریخ کو ووٹنگ تھی 23 تاریخ کو ہی سارے امیدوار ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اپنی تشہیری مہم میں لگے ہوئے تھے کیونکہ 23 تاریخ کے بعد تشہیری مہم کا شور تھمنے والا تھا ،مجھے ابھی تک سمجھ میں نہیں آیا تھا کس کو ووٹ دوں میں نے جب اپنے قرب جوار کے لوگوں سے اس بابت بات کیا تو لوگوں نے کہا ابھی آرام سے بیٹھو ووٹنگ والے دن جس کے طرف سے خرچہ مل جائےگا اسے دے دیں گے میں نے بھی کہا چلو ٹھیک ہے نیتا 5 سال تو لوٹتا ہی ہے ایک دن ہم بھی نیتا کو لوٹ لیں گے ۔

ووٹنگ کا دن آ گیا لوگ صبح صبح ووٹ ڈالنے کے لئے جانے لگے میں آرام سے بیٹھا رہا ،مجھے تو کسی کا انتظار تھا کہ کوئی آئے کچھ دے تب جاکر ووٹ ڈالیں گے ،صبح سے بیٹھے بیٹھے 12 بج گیا لیکن کوئی آیا نہیں ،12 سے 1 بج گیا پھر بھی کوئی آیا نہیں اب میرا من اوب چکا تھا میں نے من بنا لیا تھا کہ اب جاکر کسی کو ووٹ دے دوں گا ،میں تیار ہوکر گھر سے نکلا گھر سے نکلتے ہی ایک صاحب آ گئے کہنے لگے کیا بھائی ووٹ ڈال دئیے میں نے کہا نہیں کچھ کام میں لگا ہوا تھا اس لئے اب جا رہا ہوں ووٹ ڈالنے ،اسنے کہا کسے ووٹ دو گے میں نے کہا کسی کو بھی دے دیں گے پھر اسنے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور مٹھی بند کرکے نکالا اور بند مٹھی میرے ہاتھ میں پکڑاکر کہا 3 نمبر کو یاد رکھنا میں نے کہا ٹھیک ہے۔
میں جس کے انتظار میں تھا وہ مجھے مل گیا تھا اب میں اپنے پولنگ مرکز کی جانب چل دیا تھوڑی ہی دور آگے چلا تھا پھر ایک صاحب مل گئے پھر سے وہی سوال جواب ہوا جو پہلے والے سے ہوا تھا ،اس نے بھی اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور بند مٹھی میرے ہاتھ میں پکڑا کر کہا 1 نمبر کو یاد رکھنا میں نے کہا ٹھیک ہے یاد رکھیں گے ،مجھے کیا تھا مجھے تو صرف خرچے سے مطللب تھا جس کا ذیادہ ہوگا اسی کو ووٹ دیں گے یہی میری سوچ تھی ،میں پھر پولنگ مرکز کی جانب چل پڑا تھوڑی ہی دور چلنے کے بعد پھر ایک صاحب مل گئے پھر سے وہی بات دہرائی گئی اور پھر میں پولنگ مرکز کی جانب چل پڑا۔
پولنگ مرکز تک پہنچتے پہنچتے لگ بھگ سبھی امیدواروں کے نمائندوں سے ملاقات ہو گئی سب نے بند مٹھی میرے ہاتھ میں پکڑایا تھا گھر سے ٹھنڈی جیب لیکر چلا تھا لیکن مرکز تک پہنچتے پہنچتے جیب گرم ہو چکی تھی ،مرکز پر پہنچ کر میں ووٹ ڈالنے والوں کی قطار میں کھڑا ہو گیا قطار تھوڑی لمبی تھی دھوپ بھی تھوڑا ذیادہ تھا ،جب سورج کی تپس میرے دماغ پر پڑی تو میرے دماغ کے دروازے کھلنے شروع ہوئے ،اب مجھے ایک ذمہ دار ووٹر ہونے کا احساس ہونے لگا تھا ، اب مجھے ایک ذمہ دار ووٹر ہونے کا فرض یاد آنے لگا تھا ، اب میرا دماغ یہ بھی سوچنے لگا تھا کہ جو امیدوار ہمیں چند روپیوں میں خرید رہے ہیں وہ جیتنے کے بعد ہمارے علاقے میں کوئی کام کرے گا؟؟ نہیں بالکل نہیں کرے گا اور ہم اس سے کوئی سوال بھی نہیں پوچھ سکتے ہیں کیونکہ اس نے تو ہمیں پہلے خرید کر اپنا غلام بنا لیا ہے ،بھلا ایک غلام کبھی اپنے مالک سے سوال کر سکتا ہے ؟
یہی سب سوچتے سوچتے میرے اندر جانے کی باری آ گئی ،میں جب ای وی ایم مشین کے پاس پہنچا تو دیکھا یہاں سب کے سب وہی تھے جسکے نمائندوں نے بند مٹھی سے میرا جیب گرم کیا تھا ،پھر سب سے نیچے نظر گئی وہاں ایک نوٹا تھا جس کا کوئی نمائندہ ہم سے نہیں ملا تھا مجھے لگا یہی سب سے ایماندار امیدوار ہے اور میں نوٹا کا بٹن دبا کر واپس اپنے گھر کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔۔

محمد شمس الضحٰی 
Md Shamsujjoha

No comments