دن کٹا، جس طرح کٹا لیکن رات کٹتی نظر نہیں آتی بھلے ہی رات کٹے نہ کٹے، سوچی آپ کے اعلیٰ ذوق کا چکر ہی کاٹ آؤں۔ موضوع کے متعلق بس یہ عرض ہے کہ : آگہی دامِ شنیدن، جس قدر چاہیے بچھائیے مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا اہل محبت سے مخاطب ہوں، کیوں نہ محبت سے ہی شروعات کروں۔؟؟ مگر چونکہ محبت دور حاضر میں "ماڈرن خیالات" کے زیراثر پرورش پا رہی ہے، اس لئے اشعار کے پردے میں ہی آپ سے مخاطب ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے۔!! تاکس نہ گوید بعد ازیں : ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی محبت کا ورود تو ویسے ہر دل پر ہی ہوتا ہے مگر بقول شاعر : عشق کی چوٹ تو لگتی ہے دلوں پر یکساں ظرف کے ذوق سے آواز بدل جاتی ہے ایک طرف جہاں محبت کا لطیف جذبہ، نگاہوں کی تخریب کاری، خیالات کی کرم گستری سے برانگیختہ ہوتا ہے،پھر دھیرے دھیرے آہستہ آہستہ رفتہ رفتہ جستہ جستہ حسن کی سحر انگیزی انسان کو یہ کہنے پر مجبور کردیتی ہے کہ : آرزو ہے وفا کرے کوئی ہم کو چاہے، خدا کرے کوئی عشق میں گر ہے رسوائی دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی چونکہ : پتھر سے ہو، خدا سے ہو، یا پھر کسی سے ہو آتا نہیں ہے چین محبت کئے بغیر اس لئے فطرت بھی اپنا اظہار جانبین سے کرواہی لیتی ہے : نمایاں دونوں جانب، شان فطرت ہوتی جاتی ہے مجھے ان سے، انہیں مجھ سے محبت ہوتی جاتی ہے احساس محبت کی یہ چنگاری ہرچیز کو جلا کر خاک کر دیتی ہے، انسان اپنے آپ سے بے نیاز ہو جاتا ہے، سب سے اچھی بات یہ کہ محبت "میں" کو نکال کر "تو" کی تسبیح سکھادیتی ہے۔۔محب اپنے محبوب کے ساتھ چاند ستاروں سے گذرنے کے امکانات پر غور کرنے لگتا ہے : میں تیرے ساتھ ستاروں سے گذر سکتا ہوں کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے مجھ میں رہتا ہے، کوئی دشمن جاں میرا خود سے تنہائی میں ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے حد تو یہ کہ چاند کو ہی چھت پر بلایا لیاجاتا ہے : (واضح رہے کہ مذکورہ شعر میں زمینی چاند مراد ہے ) منتظر ہوں کہ ستاروں کی ذرا آنکھ لگے چاند کو چھت پر بلالوں گا اشارہ کرکے ایک عاشق اسے ہی اپنی زندگی تصور کرتا ہے، جو زلفوں کے سائے میں گذری ہو : نیند اس کی ہیں، دماغ اس کا ہے، راتیں اس کی تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہوگئیں مگر آہ !! مجازی محبت کی عمریں مختصر ہوتی ہیں، دنیاوی محبت ہی کیا، ہر چیز کو زوال آنی ہے، سب فانی ہے۔۔۔آخر ایک روز۔۔ ۔ جو محبوب کی زلفوں میں شام رکھتے تھے، وہی زبان حال سے کہہ رہے ہوتے ہیں : کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے مجازی عشق دماغی خلل محسوس ہونے لگتا ہے : بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا پھر کچھ نہیں رہتا، حسرتیں رہ جاتی ہیں۔۔۔ چاہے جس شکل میں ہو : عشق نے غالب نکما کر دیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے عشق کی واردات میں جب انسان پوری طرح چوپٹ ہوجاتا ہے، اندرونی ٹوٹ پھوٹ جب پوری طرح اسے تباہ کر چکی ہوتی ہے، کسک اور درد کی حقیقت سے وہ واقف ہو چکا ہوتا ہے۔۔ اور تو کی لذت سے آشنا ہو چکا ہوتا ہے تو دل سے ایک صدا نکلتی ہے : چلو سوئے خدا اے زاہدوں کوئے بتاں ہوکر مجازی محبت، حقیقی محبت کا ذریعہ بنتی ہے، بس فرق یہ ہے کہ ایک "پائجامے" سے باہر ہے اور دوسری "جامے" سے۔ الغرض حقیقی محبت اپنے محب کا یہ کہتی ہوئی والہانہ استقبال کرتی ہے اور تسلی دیتی ہے کہ : ہوش والوں کو خبر کیا بیخودی کیا چیز ہے عشق کیجئے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے عزیزان من! عشق حقیقی علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے یہاں، کلمہ توحید اور اس کے لوازمات پر مکمل یقین و عمل کا نام ہے، یہی اصل ہے، مالک حقیقی سے، حقیقی عشق کا تصور بھی یہی ہے۔ ہاں عقل کبھی کبھی عشق کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے، ابتدائی مقام پر تو عقل کی ضرورت ہے : فطرت کو خرد کے روبرو کر تسخیر مقام رنگ وبو کر مگر عقل ہی محض مدرک نہیں، عشق بھی صاحب ادراک ہوتا ہے۔ مزید برآں کہ عشق میں تڑپ ہے، جوش و خروش ہے جوکہ عقل کے حصّے میں نہیں آیا : عقل گو آستاں سے دور نہیں اس کی تقدیر میں حضور نہیں علم میں بھی سرور ہے لیکن یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں عقل راستے کے خطرات سے آگاہ کرتی ہے اور عشق، ان پرخطر راستوں پر چلنا سکھاتا ہے : بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی اور یہ بھی کہ عشق خود اپنی جگہ مظہر انوار خدا عقل اس سوچ میں گم کس کو خدا کہتے ہیں اس لئے : گذر جا عقل سے آگے کہ یہ نور چراغ راہ ہے، ۔منزل نہیں ہے اس عشق کے سفر میں کوئی خسارہ نہیں ہوتا، نہ ہی کسی بے چینی کا امکان باقی رہتا ہے۔۔۔۔ یہاں تو دونوں جہاں کا سکون ملتاہے، دوائے دل ملتی ہے اور اخیر میں کامیابی سے ہمکنار ہوکر بندہ یہ اعتراف کرتا ہے کہ : عشق احمد نے مجلی کردیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے نام کے بس اب اس شعر پر اپنی لن ترانیاں ختم کرتی ہوں کہ: بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئیدن کٹا، جس طرح کٹا لیکن رات کٹتی نظر نہیں آتی بھلے ہی رات کٹے نہ کٹے، سوچی آپ کے اعلیٰ ذوق کا چکر ہی کاٹ آؤں۔ موضوع کے متعلق بس یہ عرض ہے کہ : آگہی دامِ شنیدن، جس قدر چاہیے بچھائیے مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا اہل محبت سے مخاطب ہوں، کیوں نہ محبت سے ہی شروعات کروں۔؟؟ مگر چونکہ محبت دور حاضر میں "ماڈرن خیالات" کے زیراثر پرورش پا رہی ہے، اس لئے اشعار کے پردے میں ہی آپ سے مخاطب ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے۔!! تاکس نہ گوید بعد ازیں : ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی محبت کا ورود تو ویسے ہر دل پر ہی ہوتا ہے مگر بقول شاعر : عشق کی چوٹ تو لگتی ہے دلوں پر یکساں ظرف کے ذوق سے آواز بدل جاتی ہے ایک طرف جہاں محبت کا لطیف جذبہ، نگاہوں کی تخریب کاری، خیالات کی کرم گستری سے برانگیختہ ہوتا ہے،پھر دھیرے دھیرے آہستہ آہستہ رفتہ رفتہ جستہ جستہ حسن کی سحر انگیزی انسان کو یہ کہنے پر مجبور کردیتی ہے کہ : آرزو ہے وفا کرے کوئی ہم کو چاہے، خدا کرے کوئی عشق میں گر ہے رسوائی دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی چونکہ : پتھر سے ہو، خدا سے ہو، یا پھر کسی سے ہو آتا نہیں ہے چین محبت کئے بغیر اس لئے فطرت بھی اپنا اظہار جانبین سے کرواہی لیتی ہے : نمایاں دونوں جانب، شان فطرت ہوتی جاتی ہے مجھے ان سے، انہیں مجھ سے محبت ہوتی جاتی ہے احساس محبت کی یہ چنگاری ہرچیز کو جلا کر خاک کر دیتی ہے، انسان اپنے آپ سے بے نیاز ہو جاتا ہے، سب سے اچھی بات یہ کہ محبت "میں" کو نکال کر "تو" کی تسبیح سکھادیتی ہے۔۔محب اپنے محبوب کے ساتھ چاند ستاروں سے گذرنے کے امکانات پر غور کرنے لگتا ہے : میں تیرے ساتھ ستاروں سے گذر سکتا ہوں کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے مجھ میں رہتا ہے، کوئی دشمن جاں میرا خود سے تنہائی میں ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے حد تو یہ کہ چاند کو ہی چھت پر بلایا لیاجاتا ہے : (واضح رہے کہ مذکورہ شعر میں زمینی چاند مراد ہے ) منتظر ہوں کہ ستاروں کی ذرا آنکھ لگے چاند کو چھت پر بلالوں گا اشارہ کرکے ایک عاشق اسے ہی اپنی زندگی تصور کرتا ہے، جو زلفوں کے سائے میں گذری ہو : نیند اس کی ہیں، دماغ اس کا ہے، راتیں اس کی تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہوگئیں مگر آہ !! مجازی محبت کی عمریں مختصر ہوتی ہیں، دنیاوی محبت ہی کیا، ہر چیز کو زوال آنی ہے، سب فانی ہے۔۔۔آخر ایک روز۔۔ ۔ جو محبوب کی زلفوں میں شام رکھتے تھے، وہی زبان حال سے کہہ رہے ہوتے ہیں : کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے مجازی عشق دماغی خلل محسوس ہونے لگتا ہے : بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا پھر کچھ نہیں رہتا، حسرتیں رہ جاتی ہیں۔۔۔ چاہے جس شکل میں ہو : عشق نے غالب نکما کر دیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے عشق کی واردات میں جب انسان پوری طرح چوپٹ ہوجاتا ہے، اندرونی ٹوٹ پھوٹ جب پوری طرح اسے تباہ کر چکی ہوتی ہے، کسک اور درد کی حقیقت سے وہ واقف ہو چکا ہوتا ہے۔۔ اور تو کی لذت سے آشنا ہو چکا ہوتا ہے تو دل سے ایک صدا نکلتی ہے : چلو سوئے خدا اے زاہدوں کوئے بتاں ہوکر مجازی محبت، حقیقی محبت کا ذریعہ بنتی ہے، بس فرق یہ ہے کہ ایک "پائجامے" سے باہر ہے اور دوسری "جامے" سے۔ الغرض حقیقی محبت اپنے محب کا یہ کہتی ہوئی والہانہ استقبال کرتی ہے اور تسلی دیتی ہے کہ : ہوش والوں کو خبر کیا بیخودی کیا چیز ہے عشق کیجئے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے عزیزان من! عشق حقیقی علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے یہاں، کلمہ توحید اور اس کے لوازمات پر مکمل یقین و عمل کا نام ہے، یہی اصل ہے، مالک حقیقی سے، حقیقی عشق کا تصور بھی یہی ہے۔ ہاں عقل کبھی کبھی عشق کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے، ابتدائی مقام پر تو عقل کی ضرورت ہے : فطرت کو خرد کے روبرو کر تسخیر مقام رنگ وبو کر مگر عقل ہی محض مدرک نہیں، عشق بھی صاحب ادراک ہوتا ہے۔ مزید برآں کہ عشق میں تڑپ ہے، جوش و خروش ہے جوکہ عقل کے حصّے میں نہیں آیا : عقل گو آستاں سے دور نہیں اس کی تقدیر میں حضور نہیں علم میں بھی سرور ہے لیکن یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں عقل راستے کے خطرات سے آگاہ کرتی ہے اور عشق، ان پرخطر راستوں پر چلنا سکھاتا ہے : بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی اور یہ بھی کہ عشق خود اپنی جگہ مظہر انوار خدا عقل اس سوچ میں گم کس کو خدا کہتے ہیں اس لئے : گذر جا عقل سے آگے کہ یہ نور چراغ راہ ہے، ۔منزل نہیں ہے اس عشق کے سفر میں کوئی خسارہ نہیں ہوتا، نہ ہی کسی بے چینی کا امکان باقی رہتا ہے۔۔۔۔ یہاں تو دونوں جہاں کا سکون ملتاہے، دوائے دل ملتی ہے اور اخیر میں کامیابی سے ہمکنار ہوکر بندہ یہ اعتراف کرتا ہے کہ : عشق احمد نے مجلی کردیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے نام کے بس اب اس شعر پر اپنی لن ترانیاں ختم کرتی ہوں کہ: بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

No comments