میری ذات کیا ہے میری حیات کیا
کبھی دھول ہے کبھی داغ ہے
میں نمرہ شفیق... عمر سولہ ... علی گڑھ کے اس کچے سے مکان میں اپنی تین بڑی بہنوں اور ماں حلیمہ کے ساتھ رہتی ہوں... بڑی آپا ساحرہ اکثر بتاتی ہے کہ یہ علی گڑھ کا یہ مکان جہاں ہم رہتے ہیں یہ ہمارے نانا جان کا گھر ہے... انکی وفات کے بعد ہم لکھنؤ سے یہاں منتقل ہو گئے....
لیکن جب بھی میں ان سے یہ سوال کرتی ہوں کہ ہم لوگ اپنے بابا جان کا گھر چھوڑ کر یہاں کیوں چلے آئے... تب وہ اک لمحہ سامنے بیٹھی ہماری امّا کو دیکھتی اور بس خاموش ہو جاتی ہے.....
پتہ نہیں کیوں ؟؟؟
بہر حال اس کیوں کا جواب مجھے کبھی نہیں ملتا...
کل ہی کہ بات ہے میری آپی جان کو 25 ویں دفعہ رشتے والے ٹھکرا کے چلے گئے.. مجھے لگتا ہے کہ آپا کو ٹھکرائے جانے کی عادت ہوجانی چاہئے ..لیکن مجال ہے جو انکے چہرے پر دکھ یا افسوس کا ایک بھی تاثر دکھائی پڑے یا ماتھے پر کوئی افسردگی کا شکن دیکھنے کو ملے.... دن گزرنے کے ساتھ ساتھ ساحرہ آپا بالکل امّا کی پرچھائی بنتی جا رہی ہے... بڑے سے بڑا پہاڑ کیوں نہ ٹوٹ جائے... یا بڑی سے بڑی آفت کیوں نہ آ جائے میری امّا کے چہرے پر کسی قسم کا کوئی تاثر نظر نہیں آتا... آخر کیوں میری امّا بےتاثر چہرے کے ساتھ ایسے, کم وسائل, مفلسی کی, جدوجہد سے بھری ایک بوسیدہ سی زندگی پر بھی قناعت سے کام لینے والی اور ہر آن اللہ کا شکر ادا کرنے والی ہے... ؟؟؟
یہ ساری باتیں میں اپنی امّا کی تعریفوں میں بیان نہیں کررہی... میرے نزدیک یہ انکے سب سے بڑے عیوب ہیں ،سب سے بڑی خامی ہے...میں تو اللہ سے شکایت بھی کر لیتی ہوں کہ آخر کیوں ؟؟ آخر کیوں ؟؟؟
اللہ نے ہمیں ایسے مفلس ماں کی بیٹیاں بنا کر ایسی قسمتوں اور ایسے چہروں کے ساتھ ایسی جگہ پیدا کیا..؟؟. اس پر بھی میری امّا مجھے ناشکری کا لقب دے دیتی ہیں.... پتا نہیں میری امّا کو *"عظیم عورت* " کہلوانے کا اتنا شوق کیوں ہے ؟؟؟
کتنی ذیادتی کرتی ہیں ہم پر. لکھنؤ میں ہمارے بابا جان کا محل نما گھر ہے لیکن ہمیں یہاں اس گندی سی جگہ سڑا رہی ہے...
شام کو میری دوسرے نمبر والی آپا عمارہ کا آن لائن ایم- بی-اے فائنل کا رزلٹ آنے والا ہے دیکھو تو بے چاری میری آپا کیسی نروس اور ڈری سہمی لگ رہی ہے... انھیں گذشتہ سال کا رزلٹ والا دن یاد آرہا ہوگا... جب کچھ ہی نمبرات کم آنے کی وجہ سے امّا کی طرف سے انہیں کتنی تلخ گوئی اور بے رخی کا سامنا کرنا پڑا تھا.... چار روز تک وہ ٹھیک سے سو نہ سکی تھی..
آخر کیوں ہے ہماری امّا اتنی سخت ؟؟؟
شام ہوتے ہوتے آپا کے ساتھ سبھی نے سکون کا سانس لیا... آپا اچھے نمبرات سے پاس ہی نہیں ہوئی بلکہ انہوں نے پوری یونیورسٹی میں ٹاپ کیا تھا...
اس وقت امَا کا مطمئن,تفاخر سے تابناک چہرہ مجھے زہر لگ رہا تھا.... "پھر سے انکی انا مطمئن ہوگئی. انہیں آپا کی کامیابی اپنی سختی اور گذشتہ سال کی زیادتی کا نتیجہ لگ رہی ہوگی.. "
آج سے تقریباً تین چار سال پہلے ایک با وقار اور اپنے نام کی طرح شفیق انسان ہمارے جھوپڑے نما گھر آئے تھے.... میں بہت چھوٹی تھی لیکن کچھ ہی پل میں سمجھ گئی کہ وہ انسان کوئی اور نہیں میرے بابا جان شفیق احمد ہیں...
کتنی پرکشش اور پر نم آنکھیں تھیں انکی ....جب انہوں نے مجھے اپنے سینے سے لگایا تب پہلی بار مجھے باپ کی شفقت اور محبت کی گرمائش کا احساس ہوا.....بے اختیار میرا دل چاہا کہ وہ پھر مجھ سے کبھی جدا نا ہو ...میرے بابا جان میرے پاس ہی رہ جائے...
لیکن امّا نے اس دفعہ ہمارے ساتھ میں ذیادتی کی حد پار کر دی... بابا جان ہمیں لینے آئے تھے,, ہمارے اپنے گھر حقیقی گھر.... مگر امّا اپنی انا اور غرور کے آگے کسے ٹکنے دیتی تھی بھلا ؟
بابا جان مایوس ہوکر لوٹ گئے....
اسکے بعد بابا جان تھوڑے تھوڑے عرصے سےہم لوگوں کو ملنے آتے رہے.. امّا نے نہ جانے بڑی بہنوں کو کیا سکھایا پڑھایا ہوا تھا کہ وہ بابا جان سے بات کرنا تو دور انکے سامنے آتی تک نہیں تھی... امّا اور بہنیں تو بابا جان کے لائے ہوئے تحائف اور چیزوں کو چھوتی تک نا تھی... یا تو کسی غریب کو دے دیتی یا پھر وہ گھرکے کسی کونے میں پڑے گل سڑ رہے ہوتے...
" بابا جان امّا اور آپا آپ سے بات کیوں نہیں کرتی؟... ہم آپ کے ساتھ آپ کے گھر کیوں نہیں رہتے" ؟؟ اک روز میں نے بابا جان سے پوچھ ہی لیا... وہ کچھ دیر کچھ کہنے کی حالت میں نہ تھے، انکی پرکشش آنکھوں میں مجھے ندامت اور خفّت نظر آئی...
پھر وہ کچھ سوچ کر بولے... "
بیٹی کسی مجبوری میں آکر آپ کے بابا جان کو دوسری شادی کرنی پڑی.. جسکی وجہ سے آپ کی اما ناراض ہیں"
اس دن امّا نا صرف میرے دل سے اتر گئیں بلکہ میری نگاہوں سے بھی گر گئی... آخر میرے بابا جان نے ایسا بھی کیا کر دیا جو ان پر اتنی ذیادتیاں کی جا رہی ہیں. ؟؟؟
اسکے بعد بابا جان کئی مہینوں تک نہیں آئے.... شاید امّا نے کچھ کہہ دیا تھا....
کچھ روز میں میری تیسری نمبر والی آپا ہیرا کے NEET کے امتحانات ہونے والے تھے ...وہ زور و شور سے دن رات محنت و مشقت کرکے امتحان کی تیاریاں کر رہی تھی... اتنی محنت وہ خود کیلئے نہیں کررہی تھی.. بلکہ انہیں تو صرف اما کی نظروں میں جچنا تھا... وہ اما کا سر فخر سے اونچا کرنا چاہتی تھی تاکہ وہ بابا جان کے سامنے غرور سے سر اٹھا سکے... بابا جان کو دکھا سکے کہ ہم آپ کے بنا بھی زندگی گزار سکتے ہیں...
اف ..اف...اف...میری بہنیں کتنی معصوم اور بھولی ہیں...
کچھ ہی دن بعد میری ساحرہ آپا کا رشتہ امّا کی کسی کزن کے بیٹے کے ساتھ طئے ہو گیا...
میں نے دل میں سوچا اتنے وقت سے یہ لوگ کہاں مر رہے تھے... پہلے آتے تو کم از کم میری آپا پر اتنے ریجیکشنس کے *داغ* تو نہیں لگتے...
خیر گھر میں اک خوشگوار سی فضا چل پڑی...
میں ہمیشہ کی طرح بابا جی کی اگلی ویزیٹ کے انتظار میں تھی... ساحرہ آپا شادی کا انتظار کررہی تھی... عمارہ آپا کسی اچھی جاب کے ملنے کی منتظر تھی...
ہیرا اپنے NEET کے امتحان کے انتظار میں تھی.... "
اور میری امّا کا وہی یاسیت زدہ اور افسردہ چہرہ "سوگِ مسلسل "
میں نے حقارت سے سوچا....
آپا کی شادی کو کچھ ہی دن باقی تھے.. امّا فیکٹری میں اوور شفٹ میں کام کرنے لگی تھی... ساحرہ آپا بھی امّا کا بھر پور تعاون کررہی تھی...
ایک رات امّا کافی دیر سے گھر پہنچی اور اور گھر میں آتے ہی اندر والے کمرے میں چلی گئی... اور جاتے ہوئے ساحرہ آپا کو بھی آنے کا کہہ کر گئی.... ہم تینوں کی آنکھیں وہی ٹکی ہوئی تھی پھر آپا بہت دیر بعد انکے کمرے سے باہر آئی لیکن پوچھنے پر بھی آپا نے کچھ نہیں بتایا اور سونے چلی گئی...
صبح دیکھا تو امّا کا جسم برف کی طرح ٹھنڈا ہو چکا تھا... بے حرکت بالکل ساکت... ہم نے انہیں بہت پکارا بہت لیکن انہوں نے ایک نہ سنی...
امّا اس دنیا سے رخصت ہوچکی تھی.. جتنی خاموشی سے انہوں نے زندگی گزاری اتنی ہی خاموشی سے وہ زندگی کو خیر باد کہہ کر چلی گئیں...
وہ جیسی بھی تھی ماں تھی میری... مجھے نفرت تھی ان سے لیکن پھر بھی وہ ماں تھی میری اپنی تینوں بہنوں کی طرح میں بھی بہت روئی بہت چیخی لیکن میری ماں نے ان سنا کر دیا کیونکہ وہ مر چکی تھی....
میّت میں بابا جان, دادی جان اور میرے بابا جان کی دوسری بیوی بھی آئی..
کچھ روز بعد بابا پھر آئے.. اس دفعہ وہ ہم چاروں کو اپنے ساتھ لے جانے کے لئے آئے.... لیکن ساحرہ آپا نے یہ کہہ کر منع کر دیا... "آپ کو پتا ہے شفیق احمد میری ماں نے جو آخری بات مجھ سے کہی تھی وہ کیا تھی ؟ انہوں نے کہا کہ گر انہیں کبھی کچھ ہوجائے....کبھی اپنے باپ کے گھر مت جانا...اور پھر وہ مر گئ... ہماری ماں اس گھر میں تڑپ تڑپ کر مر گئ... ہم بھی یہی مر جائےگ. "
لیکین میں نے اپنی دیگر بہنوں کی طرح ساحرہ آپا کی بات نہیں مانی بلکہ احتجاج کیا اپنے حق کی دہائی دی اور انہیں فیصلہ سنا دیا کہ میں بابا جان کے ساتھ ہی جاؤ ں گی...
میں کمرے میں آکر پیکینگ کرنے لگی تب ساحرہ آپا میرے پیچھے آئی...
انہوں نے بڑے تحمل کے ساتھ مجھے مخاطب کیا... "اگر تم نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو میں تمہیں روکوں گی نہیں.... لیکن تمہارے دل و دماغ میں امّا کیلئے جو نفرت, کدورت اور بدگمانی ہے اسے دور ضرور کرنا چاہوں گی... "
"
مردہ لوگوں کو برا نہیں کہنا چاہیے میں بس اسی لئے چپ ہوں ورنہ امّا کی ذیادتیوں سے بے خبر آپ بھی نہیں... "
میرے لہجے اور لفظوں میں اتنا زہر تھا کہ ماں کی موت بھی اسے کم نا کر سکی...
تم کچھ نہیں جانتی نمرہ اس لئے چپ کر کے سنو میری بات آج تمہارے ہر کیوں کا جواب میں دونگی ...
یہ ہمارے نانا جان کا گھر ہے..! ہم بارہ سالوں سے یہاں رہ رہے ہیں... امّا نانا جان کی اکلوتی اولاد تھی اور وہ بھی بیٹی!!! امّا نے عمر بھر بیٹی ہونے پر ملامتیں سہی... نانا جان کو وہ اک آنکھ نہیں بھاتی تھی.... اس گھر میں انہیں صرف اذیّتیں ہی ملی.. اور تمہیں کیا لگتا ہے کہ جب وہ شادی کرکے شفیق احمد کے گھر گئ تب وہاں انہیں بہت سکون ملا... شادی کے ایک سال بعد میں ہوئی تو دادی کا چہرہ اتر گیا انہیں بیٹا چاہیے تھا... پھر دوسری بار عمارہ ہوئی... تیسری دفعہ ہیرہ پھر تم....
نمرہ میں نے دیکھا بابا اور دادی نے امّا پر کتنے ظلم ڈھائے, انہیں کیسے کیسے جسمانی اور ذہنی طور پر ٹارچر کیا جاتا, کتنی ملامتیں کتنی لعن طعن کا سامنا کیا انہوں نے ہمارے وجود کی باعث.... جیسے ہم بیٹیاں نہیں کوئی عذاب ہو... جیسے ہم انسان نہیں کوئی داغِ حیات ہو, کوئی ناسور ہو....
امّا کے اتنے سخت اور تلخ ہونے کی پیچھے ہمارےاس دنیا میں آنے کا سبب نہیں بلکہ بابا اور دادی کا انہیں دن رات ذہنی اور جسمانی اذیتیں دینا ہے....
بابا نے کسی مجبوری میں نہیں بلکہ بیٹے اور دولت کی خواہش
میں دوسری شادی کی.... یہ دو چیزیں جو ہماری ماں انہیں نہیں دے سکتی تھی..... تم نہیں جانتی نمرہ تم بہت چھوٹی تھی... نئی بیوی کے آنے کے بعد بابا کی نظروں میں ہماری کوئی حیثیت ہی نہیں رہی تھی.... ہماری ماں بس اس گھر کی نوکرانی باندی بن کر دن بھر کولہو کے بیل کی طرح کام کرتی تھی.... بابا,دادی,اور انکی نئی بیوی دن رات ہماری بے عزتی کرتے... ہمیں ذلیل کرتے ...امّا ذہنی مریضہ بنتی جا رہی تھی...
پھر انکی بیوی نے دو بیٹوں کو جنم دیا.. اسکے بعد بابا ہم سے مکمل طور سے غافل ہوگئے..... ایک رات تم بہت بیمار ہوگئی تھی بابا آفیس سے آئے تو امّا نے انہیں تمہاری طبیعت کا بتایا تو بابا نے جواب دیا وہ بہت تھکے ہوئے ہیں صبح ہسپتال لے جائیں گے تمہیں. ..تم صرف دوسال کی تھی بخار میں مبتلا,تڑپ رہی تھی....امّا رات بھر نہیں سوئی بس روتی رہی....لیکن دادی یا بابا کو ترس نہیں آیا....
اسی دوران نانی جان کے گزرنے کے کچھ عرصے بعد نانا جان بھی فوت ہوگئے....
دن رات کی ذیادتیوں، نا انصافیوں,ذلتّوں سے تنگ آکر امّا نے یہ فیصلہ کیا کہ اب وہ اس گھر میں واپس نہیں جائیگی... ہماری ذات ہمارے وجودکو وہ اک سیاہ داغ بننے نہیں دینگی... وہ ہمیں احساس کمتری اور عدم تحفظ میں جینے نہیں دینگی... وہ ہمیں صرف دو وقت کی روٹی کے لئے ذلت بھری زندگی نہیں جینے دینگی....
پھر وہ واپس کبھی نہیں گئ نا کبھی بابا آئے ہمیں لینے...
یہ جو اتنے مگرمچھ کے آنسو بہائے جا رہے ہیں نا پتا ہے کیوں ؟؟
کیونکہ اب ہمارے بابا بے اولاد ہو چکے ہے.... چار سال پہلے اک ایکسیڈنٹ میں انہوں نے اپنے دونوں صاحب زادے کھو دئیے ہیں... انہیں ہماری محبت واپس نہیں لائی تھی بلکہ انکی پشیمانی اور ندامت واپس لائی تھی... انہیں یہ احساس ہو گیا ہے کہ اولاد کا باپ ہونا فخر اور مسرت کا باعث ہوتا ہے... ناکہ بیٹے کا باپ ہونا....
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہماری ماں اک عظیم عورت تھی.... کیونکہ وہ حسین تھی جوان تھی ہمیں کسی یتیم خانے بھرتی کرکے دوسری شادی کر سکتی ..تھی لیکن انہوں نے اپنے حسن و شباب کے بیش قیمتی ایّام ہمارے اوپر قربان کر دیئے, زندگی کی تعیش کو ٹھوکر مار کر دن رات فیکٹریوں کے دھکے کھائے صرف اس لئے کہ وہ ہمیں ایک باعزت اور بے داغ زندگی فراہم کر سکے امّا نے تمہیں یہ سب بتانے سے منع کیا تھا اس لیے تاکہ بابا جان تمہاری نظروں میں بھی نا گر جائے... بے شک ہماری ماں ایک عظیم عورت تھی..
آپا کہہ کر چلی گئی... اور مجھے خود سے نفرت محسوس ہونے لگی بے حد بے تحاشا نفرت.... میری آنکھوں سےآنسوؤں کےبجائے شعلے برس رہےتھے...
فیصلہ سامنے تھا اور میں نے فیصلہ کر لیا تھا...
"بیٹیاں ذلت نہیں ہوتی....وہ قابلِ تحقیر نہیں ہوتی...وہ تو رحمت ہوتی ہے... عزت ہوتی ہیں... قابلِ توقیر ہوتی ہیں... وہ داغِ حیات نہیں ہوتی.... وہ مثل مہتاب ہوتی ہیں... میری ماں اس گھر میں تڑپ تڑپ کر مر گئی... میں بھی مر جاؤنگی لیکن میں شفیق احمد کے گھر کبھی نہیں جاؤنگی".....
شاہین حیات

💓💓
ReplyDeleteगज़ब good
Delete