کلیوگ کا پنچ پرمیشور
قریب ایک مہینے بعد آج میں حاجی پور سے گھر جا
رہا تھا رات 9 بجے میں اپنے ہوسٹل سے نکلا اور صبح قریب سات بجے گھر پہنچنے
والا تھا اپنے گاؤں کے اندر داخل ہوتے ہی میں اپنے گھر کی طرف
تیزی تیزی قدم بڑھانے لگا جب میں گھر پہنچنے ہی والا تھا کہ چائے
کے دکان سے ایک آواز سنی " کیا آج پریم چند کا افسانہ پنچ
پرمیشور سچ ثابت ہوگا " لیکن گھر کی طرف تیزی سے بڑھتے قدم
نے مجھے وہاں نہ رکنے پر مجبور کیا اور کرتا بھی کیوں نہیں قریب 19
سال تک اپنے والدین اور بھائی بہنوں کے بیچ
رہنے کے بعد اچانک مجھے "سپیٹ" ( سینٹرل
انسٹیٹیوٹ آف پلاسٹکس انجینرنگ اینڈ ٹیکنالوجی )
حاجی پور 6 ماہ کا کورس کرنے کے لئے جانا پڑا وہاں اپنوں کے
بغیر وقت ایسے گزر رہا تھا جیسے مانو کسی نے میرے سالگرہ
پر مجھے یہ دعا دے دیا ہو تم جیو ہزاروں سال اور ایک دن ہو ہزار دن کے
برابر بہر کیف آج میں ایک مہینے بعد اپنے گھر والوں سے ملا تھا لیکن
یہ بات کیا آج پریم چند کا افسانہ پنچ پرمیشور سچ ثابت ہوگا میرے اندر
کھلبلی پیدا کر رہی تھی کہ آخر کون سی بات ہے کہ گاؤں والوں کو
سو سال پرانا پریم چند کا افسانہ پنچ پرمیشور یاد آ رہا ہے گھر پہنچتے
ہی میں اپنے دوست اور سابق سرپنچ کے بیٹے محمود کو فون کر کے بلایا اور میں نے اس
سے کہا آج گاؤں میں کچھ ہوا ہے کیا ؟ آج صبح جب میں گھر آ رہا تھا تو
ایسی –ایسی باتیں سنی ہیں میں نے ایک ہی سانس میں اس سے سب کچھ
کہہ ڈالامحمود نے کہا چلو پہلے بیٹھتے ہیں پھر بتاتے ہیں میں اور محمود
دونوں اپنے کمرے میں چلے آئے تب محمود نے کہنا شروع کیا تم تو
جانتے ہی ہو میرے والد صاحب پہلے سرپنچ تھے اور اس بار انکے ہارنے کی وجہ بھی تو
معلوم ہی ہے وہ ایک پنچایت جس میں ریحان اور مقبول کے درمیان برسوں سے چلے آ رہے زمینی
تنازعہ کو میرے والد صاحب نے ایک ہی پنچایت میں حق
اور سچّا ئی پر رہنے والے ریحان کو دلا دیا اور اس زمین پر پیسے اور
طاقت کے زور پر بسے ہوئے مقبول کو بے دخل کر دیا جہاں اس فیصلے کو امن اور
انصاف پسند لوگوں نے حق اور سچّا ئی کی جیت کہا تو وہیں مقبول اور اسکے حامیوں نے
میرے والد صاحب کو دھمکی دیتے ہوئے کہا دو مہینے بعد الیکشن ہے بتا دیں گے -
دو مہینے بعد انتخاب کا بگل بجا الیکشن کمیسن
کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری ہوا پرچہ نامزدگی کا عمل شروع ہوا میرے والد
صاحب نے پرچہ نامزدگی کےٹھیک تیسرے دن پرچہ نامزدگی داخل
کیا جس میں لوگوں کا ہجوم امنڈ پڑا یہ دیکھ کر مقبول اور اسکے
حامیوں کے ہوش اڑ گئے طئےمنصوبہ کے مطابق میرے والد صاحب کے پرچہ نامزدگی کے
ٹھیک دو دن بعد یعنی پرچہ نامزدگی کے پانچویں دن مقبول کے حامی امیدوار کامران نے
پرچہ نامزدگی داخل کیا جس میں بہت ہی کم لوگوں نے شرکت کی اور ہم لوگ بھی
اطمینان بخش تھے کہ آخر گاؤں والوں کے ساتھ میرے والد صاحب نے بھی انصاف کیا ہے تو
گاؤں والے بھی میرے والد صاحب کے ساتھ انصاف کریں گے اور پرچہ نامزدگی کے دوران
عوام کا ہجوم بھی امنڈا ہی تھا تو انشاءالله جیت ہمارے والد کی ضرور ہوگی
لیکن چناؤ کا نتیجہ اسکے برعکس با لکل خلاف یعنی مقبول اور اسکے حامی امیدوار
کامران ووٹروں کو پیسے کی لالچ دے کر اپنی طرف کرنے میں کامیاب
رہا اور میرے والد صاحب کامران سے یک طرفہ ووٹوں سے ہار گئے اس چناوی
نتیجہ کے بعد ہم لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس گاؤں کے بھی چنندہ لوگ چند روپئے
کی خاطر اپنا بھروسہ تک بیچ سکتے ہیں اور کسی کو بھی دھوکہ دے سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر کچھ دنوں بعد حالات اپنے معمول پر آگیا گاؤں کے سبھی لوگ ہنسی خوشی وقت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہے تھے لیکن مقبول کے اندر اب بھی بدلے کی آگ سلگ رہی تھی اور وہ بدلہ لینے کے لئے ہر وقت بے چین رہتا تھا لیکن کامیاب نہیں ہو پا تا تھا - لیکن کل اچانک جس زمین کو میرے چچا احمد نے 8 سال قبل مدن مکھیا سے خریدا تھا اس پر دھاوا بول دیا جعلی کاغذات دکھا کر زمین کوخالی کرنے کے لئے کہنے لگا نہیں کرنے پر تشدّد پر آمادہ ہو گیا یہ دیکھ بڑے بزرگوں نے آ کر بیچ بچاؤ کیا اور سبھی نے مقبول کو سمجھاتے ہوئے کہا یہ زمین تو احمد کی ہے یہ ہم سب کیا تم بھی جانتے ہو کہ احمد نے یہ زمین مدن مکھیا سے 8 سال پہلے خریدا تھا پھر تم یہ جعلی کاغذات لیکر احمد کو کیوں پریشان کرتے ہو تو مقبول کہنے لگا نہیں یہ میرا خاندانی زمین ہے یہ زمین میرے والد کے نام ہے یہ دیکھو کاغذات اور اپنے جعلی کاغذات دکھانے لگا جب مقبول کسی بھی طرح نہ مانا تو سبھی نے کہا کہ چلو کل ایک پنچایت بیٹھاتے ہیں اسی میں سرپنچ صاحب جو فیصلہ کرینگےاسی کو مان لیں گے اس میں مقبول نے بھی حامی بھر دی کل صبح یہ سب ہونے کے بعد میرے چچا نے رجسٹری آفس جا کر اپنے کاغذاتوں کا میلان کروایا تو احمد چچا کے کاغذات بالکل صحیح نکلے اور اس زمین کے کاغذ پر مقبول کے والد کے نام کا کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا اور اب آج سہ پہر تین بجے پنچایت میں فیصلہ ہونے والا ہے اس لئے لوگ ایسی ایسی باتیں کر رہے تھے میں نے کہا جب زمین کے اصلی کاغذات تمہارے چچا کے ہیں تو فیصلہ بھی تمہارے چچا کے حق میں آئےگا چلو پھر بھی کہانی میں پڑھے ہوئے پنچ پرمیشور کو آج سچ ہوتے ہوئے دیکھ لیں گے _ میں قریب پونے تین بجے گرام کچہری پہنچا وہاں دونوں فریق مقبول اور احمد پہلے سے ہی پہنچے ہوئے تھے اور بہت سارے لوگ بھی پہنچے ہوئے تھے سرپنچ کامران صاحب سرپنچ کی کرسی پر جلوہ افروز تھے دونوں فریق اپنی اپنی دلائل پیش کر رہے تھے اسی احمد صاحب بول اٹھے جب آج کل تعلیم کے سرٹیفکیٹ روپئے سے بن سکتے ہیں تو زمین کے کاغذات کیا ہیں اس لئے میں سرپنچ صاحب سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنا فیصلہ حق اور سچّا ئی کے نام کریں _____ دونوں فریق کے دلائل سننے کے بعد سرپنچ صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا _ "مقبول صاحب کے پاس جو زمین کے کاغذات ہیں وہ نئے ہیں اور احمد صاحب کے پاس جو کاغذات ہیں وہ پرانے ہیں اس لئے پرانے کاغذات پر اعتبار نہ کرتے ہوئے نئےکاغذات والے فریق مقبول صاحب کو یہ زمین دیا جاتا ہے " یہ فیصلہ سن کر سبھی دم بخود رہ گئے بھیڑ میں سے کسی نے کہا یہ کیسا انصاف ہے اور کامران صاحب کودیکھتے ہی میرے منہ سے برجستہ نکل پڑا کلیوگ کا پنچ پرمیشورر

No comments