A true Urdu Story " Feelings of Love " by Md Shamsujjoha

Share:


اس سے جان پہچان  تو پہلے سے ہی تھی لیکن بات کبھی نہیں ہوتی تھی نہ ہی میں اسے میسیج کرتا تھا اور نہ ہی وہ مجھے میسیج کرتی تھی ،میری      ایک عادت یہ بھی ہے کہ میں کسی کو پہلے کال یا میسیج نہیں کرتا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ نہ جانے سامنے والا کون سے کام میں مشغول ہوگا کہیں وہ میرے کال یا میسیج سے ڈسٹرب نہ ہو جائے میرا یہ فارمولہ ضرورت کے کاموں کے وقت کام نہیں کرتا ہے سخت ضرورت رہنے پر کال یا میسیج کر ہی لیتا ہوں اور سب کوئی میرے بارے میں یہ بھی جانتے ہیں کی 24 گھنٹہ میں سے 18 گھنٹہ میں موبائل کا ہی استعمال کرتا رہتا ہوں ا س لئے جب جسےضرورت پڑتی تھی کال یا میسیج کر لیتا تھا ۔

مارچ کے تیسرے ہفتہ کی منگل اور بدھ کے بیچ والی رات تھی سردی ابھی بھی تھوڑی تھوڑی تھی  میرا گاؤں سدور دیہی علاقہ رہنے کی وجہ سے سب یہاں 9 بجتے بجتے سو جاتے تھے ،میں بھی کھانا کھا کر اپنے روم میں آ گیا تھا لیکن معمول کے مطابق مجھے نیند 12 بجے کے بعد ہی آتی تھی جب تک میں شوسل میڈیا کے چکر لگاتا رہتا تھا کبھی وہاٹسپ کبھی فیس بک تو کبھی ٹوئٹر پر ادھر سے ادھر بھٹکتا رہتا تھا ،اس رات بھی میں ٹوئٹر چلا رہا تھا اتنے میں   ہی وہاٹسپ کا میسیج نوٹیفیکیشن کے ساتھ آیا جب میں نے وہاٹسپ کھولا تو دیکھا علیزہ کا میسیج تھا " ہائی ایم ایس" میں نےسوچا شاید اسے بھی کوئی ضروری کام ہوگا یا کوئی ضروری بات پوچھنی ہوگی اس لئے میسیج کی ہے ، میں نے  بھی جواب دیا  "ہائی علیزہ"  پھر باتوں کا سلسلہ شروع  ہو گیا  لگ بھگ آدھے گھنٹے تک چیٹ ہوتی رہی لیکن اس دوران حال احوال پوچھنے کے سوا  اور کوئی ضروری کام کی بات نہیں ہوئی تو میں نے سوچا شاید حال احوال پوچھنےکے لئے ہی میسیج کی ہوگی ،   علیزہ کے گڈ نائٹ بولنے کے بعد میں پھر سوشل مڈیا پر جاکر بھٹکنے لگا لگ بھگ 12 بجے کے بعد موبائل بند کر کےسو گیا

دوسرے دن پھر میسیج آیا حال احوال پوچھنے کے بعد لگ بھگ ایک گھنٹہ تک ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہی پھر گڈ نائٹ کہ کر چلی گئی اور میں اپنے عادت کے مطابق پھر فیس بک ،وہاٹسپ اور ٹوئٹر کے چکر لگانے لگا ، اسی طرح پھر تیسرے دن ،چوتھے دن ، پانچویں دن  مطلب یہ کہ اب علیزہ سے وہاٹسپ پر بات کرنا روز کا معمول بن گیا تھا ،اب اس سے بات کرنا ایک عادت سی بن گئی تھی جس رات وہ میسیج نہیں کرتی تھی اس رات میرے اندر ایک عجیب سی بے چینی ہوتی تھی اور نیند کا تو دور دور تک پتہ نہیں رہتا تھا  لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا آخر میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے ،خیر اسی طرح وقت گزرتا رہا ۔

ایک دن علیزہ نے بات بات میں ہی پوچھی کیا کوئی لڑکی آپ کی دوست ہے ؟ میں نے کہا نہیں لڑکی تو دور کی بات ہے کوئی لڑکا بھی میرا دوست نہیں ہے جو بھی دوست کے نام پرہے وہ سب مطلبی ہے ضرورت پڑا تو یاد کیا نہیں تو کبھی حال احوال بھی نہیں پوچھتا ہے اس پر علیزہ نے کہا ہاں دنیا ایسی ہی ہے جب ضرورت پڑی یاد کیا  باقی آپ کسی بھی حال میں رہو اسے اس سے  کوئی مطلب نہیں  میں نے ہمم کے ساتھ جواب دیا تم میرے ان سب دوستوں سے اچھی ہو کم سے کم روز حال احوال پوچھنے کے ساتھ کچھ دیر بات بھی تو کر لیتی ہو ،علیزہ نے جواب دیا پتہ نہیں میں کیسی ہوں پر میری کوشش رہتی ہے کہ میں کسی اپنوں کو نہ بھولوں اور آپ تو خاص ہیں آپ کو کیسے بھول سکتی ہوں ،میں تھوڑا چونک گیا پھر میں نے پوچھا اگر تم یہ کہتی کی آپ اپنوں میں سے ہو تو میں آپ کو کیسے بھول سکتی ہوں تو سمجھ میں آتا   لیکن تم کہہ رہی ہو "آپ تو خاص ہیں آپ کو کیسے بھول سکتی ہوں " یہ میرے سمجھ میں نہیں آیا اسکا مطلب کیا ہے اس نے کہا   وقت آنے پر سب سمجھ جائیے گا پھر گڈ نائٹ بول کر چلی گئی،وہ تو چلی گئی لیکن میں بہت دیر تک اسکی باتوں میں الجھا رہا میرے دل میں بس یہی خیال بار بار آ رہا تھا کیا اسے میرے دل کی بات معلوم ہو گئی ہے؟ کہ مجھے اس سے چیٹ کرتے کرتے محبت ہو گئی ہےاور میں اسے بتانے سے ڈر رہا ہوں ،کیا سچ میں ایسا ہو سکتا ہے ؟میرے کچھ بتائے بنا وہ جان سکتی ہے میں یہی سب سوچتے سوچتے کب سو گیا پتہ بھی نہیں چلا ،صبح جب آنکھ کھلی تو دیکھا موبائل کہیں اور پڑا ہوا ہے اور میں کہیں اور ہوں ۔

پورا دن گزرنے کے بعد رات میں 9 بجے پھر علیزہ کا میسیج آیا   "ہائی ایم ایس"  میں نے بھی جواب دیا  "ہائی علیزہ" میں کچھ اور لکھ ہی رہا تھا  کہ اسکا میسیج آیا

علیزہ – آج میں بہت خوش ہوں

میں – کیوں

علیزہ – آج میں وہ کام کرنے والی ہوں جسکی آپ بھی ہمت نہیں کر سکتے

میں – ایسا کون سا کام ہے جو میں نہیں کر سکتا ہوں

علیزہ – کر کے دکھا دوں کیا؟؟؟

میں – ہاں

علیزہ – اوکے ویٹ(ٹھیک ہے انتظار کیجئے)

علیزہ – مجھے آپ سے اور آپ کو مجھ سے محبت ہو گئی ہے

میں – کیا۔۔۔۔۔؟؟؟

علیزہ – ہاں

میں – اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔

میں – تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی ہے یہ تو سمجھ سکتا ہوں لیکن مجھے  بھی تم سے محبت ہو گئی ہے یہ تم کیسے کہہ سکتی ہو ۔۔۔؟؟؟

علیزہ – مجھے کب آپ سے محبت ہو گئی یہ میں خود نہیں جانتی ہوں ، اور جہاں تک بات ہے آپ کو مجھ سے محبت ہونے کا تو اس کی کچھ وجہ ہے جیسے میرے میسیج کا بے صبری سے انتظار کرنا ، کبھی غصہ ہو جاؤں تو سوری  بول کر منا لینا ،ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا ،ایک دوسرے کی ہر بات کو ماننا ،ایک دوسرے کا خیال رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔ یہی سب چند باتیں ہیں  جس سے  مجھے احساس ہوا کی ہاں آپ بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں۔

 

محمد شمس الضحیٰ

No comments